کی تھی دم کن یار سے آغوش ذرا گرم
کی تھی دم کن یار سے آغوش ذرا گرم
اب تک مرے سینے سے نکلتی ہے ہوا گرم
اک روز تو آ کر مری آغوش میں بیٹھو
ٹھنڈا دل پرسوز ہو، پہلو ہو ذرا گرم
پانی کو بنا دیتی ہے الفت کی ہوا آگ
آنسو مری آنکھوں سے نکلتے ہیں بلا گرم
کیونکر کفِ نازک کو بنا دیتی ہے شعلہ
مشہور ہے رکھتی نہیں تاثیر حِنا گرم
تسلیمؔ جگر سوختۂ عشق ہوں اس کا
جس ماہ کا بستر شبِ اسریٰ میں رہا گرم
تسلیم لکھنوی
Comments
Post a Comment