میں تھک گیا ہوں جھیل میں کنکر گرا گرا

ظالم سمجھ رہا تھا کہ مٹی پہ جا گرا
پنچھی شجر سے سیدھا مرے دل میں آ گرا
سنگت فضا کی ٹوٹی نہیں ہے زمین پر
زخمی سے پہلے اڑتے ہوے دوسرا گرا
سوگ_شکست لوگ مناتے ہیں اب وہاں
رستے میں جس جگہ پہ مرا حوصلہ گرا
واحد چراغ گھر کا چٹخ کر بجھا ہے رات
جونہی پڑوس میں کوئی روشن دیا گرا



اے خوش جمال شخص ترے انتظار میں
میں تھک گیا ہوں جھیل میں کنکر گرا گرا
آندھی کے پر کھلے ہی نہیں تھے ابھی تلک
جب زرد پتہ شاخ سے بے ساختہ گرا
ہاں ! یہ کہا تھا شام کا منظر دکھائی دے
یہ تو نہیں کہا تھا کہ سورج "بجھا گرا"
 راکب مختار

Comments