میری نظروں میں ہے اک جانِ وفا کا نقشہ
میری نظروں میں ہے اک جانِ وفا کا نقشہ
کس نے دیکھا ہے اس انداز و ادا کا نقشہ
عشق میں فرقت و قربت ہیں برابر دونوں
یہ قیامت کا سماں ہے، وہ بلا کا نقشہ
دل کچھ بھی نہیں اب کفرِ محبت کے سوا
جم گیا ایک بُتِ ہوش ربا کا نقشہ
تو نے دیکھا ہی نہیں تجھ سے کہوں کیا زاہد
ہائے ان شوخ نگاہوں میں حیا کا نقشہ
دل مُیسّر ہو تو کیا سیرِ دو عالم کی ہوس
اسی نقشہ میں ہے کلُ ارض و سما کا نقشہ
دل میں جب درد اُٹھا نور کا طوفاں بھی اٹھا
کھنچ گیا سامنے اک برق ادا کا نقشہ
آج جھکتی نظر آتی ہے جبینِ کونین
دیکھنا یار کے نقشِ کفِ پا کا نقشہ
پاک رکھ، اشک ندامت سے بہر حال جگر
دیکھا ہے انہی آنکھوں سے خدا کا نقشہ
۔۔۔۔۔۔۔
جگر مرادآبادی
Comments
Post a Comment