کمزور سے لکھتا ہوں جو اشعار مسلسل



کمزور سے لکھتا ہوں جو اشعار مسلسل
رہتا ہوں ترے ہجر میں بیمار مسلسل

ایم اے کی بجائے جو مکینک ہی میں ہوتا
چھ سال سے رہتا نہ میں بیکار مسلسل

میں کتنے رقیبوں کو سنبھالوں مرے محبوب
رہتے ہیں مری تاک میں دو چار مسلسل

ٹانگیں مری ٹوٹی ہیں جسے چھیڑ کے یارو
ہوتے ہیں اُسی نرس کے دیدار مسلسل​

میں نے تو بجائی تھی فقط ایک ہی سیٹی
پڑتی ہی چلی جاتی ہے کیوں مار مسلسل

ہوتے ہیں محبت میں بھی چھترول کے درجات
کھلتے چلے جاتے ہیں یہ اسرار مسلسل

ہے راحتِ جاں گر تو مجھے راحتِ جاں دے
کیوں مجھ کو سمجھ رکھتی ہے خرکار مسلسل

بیگم کی محبت ہے کہ ہے دست درازی؟
کیوں سرخ رہا کرتے ہیں رخسار مسلسل

ہوتی ہے ترقی اسی رفتار سے ان کی
انگلش کی بڑھاتے ہیں جو رفتار مسلسل

سگریٹ سے خلاصی کے لئے ڈال دی نسوار
سگریٹ بھی سلامت، ہوئی نسوار مسلسل

ڈر ڈر کے مری قوم کا کیوں خشک نہ ہو خون
ہر روز ڈراتے جو ہیں اخبار مسلسل

شاعر کے لئے مفلسی ٹانک کی طرح ہے
فاقوں کے تسلسل میں ہیں اشعار مسلسل
امجد علی راجا

Comments