دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہے

دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہے
 پاس کس کس کو بٹھایا ترا پہلو نہ رہے
خوں کی ترسیل میں دقت کا سبب بنتی ہو
 جو بھی رہتا ہے رہے دل میں مگر تو نہ رہے
میری خواہش ہے کہ ہر خار میں نرماہٹ ہو
 اس کی ضد ہے کہ گلابوں میں بھی خوشبو نہ رہے
شام ڈھلتے ہی مرے دکھ میں اضافہ کرنے
 تو بھی آ جاتی ہے کوئل تری کو کو نہ رہے
حکم_ہجرت پہ عمل مجھ سے بھی پہلے کیا ہے
 اپنا گھر چھوڑ دیا آنکھ میں آنسو نہ رہے
وقت نے چھین لۓ لمس کے سارے اسباب
 پھول چہرے نہ رہے ریشمی بازو نہ رہے
راکب مختار

Comments