جو کچھ کہو قبول ہے، تکرار کیا کروں



جو کچھ کہو قبول ہے، تکرار کیا کروں
سچ بول کر خفا تمھیں بیکار کیا کروں

ہیں واشگاف مجھ پہ تمھاری عِنایتیں
جو ان کہی نہ ہو، اُسے اِظہار کیا کروں

معلوُم ہے کہ پار کُھلا آسمان ہے
چُھٹتے نہیں ہیں یہ در و دِیوار کیا کروں

اِس حال میں بھی سانْس لِئے جا رہا ہُوں میں
جاتا نہیں ہے آس کا آزار، کیا کروں

پھر ایک بار وہ رُخِ معصُوم دیکھتا
کُھلتی نہیں ہے چشمِ گُنہگار کیا کروں

تنہائی میں تو پُھول بھی چُبھتا ہے آنکھ میں
تیرے بغیر گوشۂ گُلزار کیا کروں 

یہ پُرسکون صُبح، یہ میں، یہ فِضا شعُور
وہ سو رہے ہیں، اب اُنھیں بیدار کیا کروں

انور شعور

Comments