وہ جو اک شخص مجھے طعنۂ جاں دیتا ہے



وہ جو اک شخص مجھے طعنۂ جاں دیتا ہے
مرنے لگتا ہوں تو مرنے بھی کہاں دیتا ہے
تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے اگر تجھ کو قبول 
یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے​

تم جسے آگ کا تریاق سمجھ لیتے ہو 
دینے لگ جائے تو پانی بھی دھواں دیتا ہے
جم کے چلتا ہوں زمیں پر جو میں آسانی سے 
یہ ہنر مجھ کو مِرا بارِ گراں دیتا ہے
ہاں اگر پیاس کا ڈھنڈورا نہ پیٹا جائے
پھر تو پیاسے کو بھی آواز کنواں دیتا ہے

اظہر فراغ​

Comments

Post a Comment