حقیقتوں کو فسانہ نہیں بناتی میں

حقیقتوں کو فسانہ نہیں بناتی میں
تمہارے خواب سے خود کو نہیں جگاتی میں

وہ فاختہ کی علامت اگر سمجھ جاتا
تو اس کے سامنے تلوار کیوں اٹھاتی میں

خدا کا شکر کہ وہ راستے سے لوٹ گیا
اگر وہ آتا تو اس کو کہاں بٹھاتی میں

کسی خیال میں ہاتھوں سے چھوٹ جاتے ہیں
یہ جان بوجھ کے برتن نہیں گراتی میں

جناب واقعی میں نے کہیں نہیں جانا
وگرنہ آپ کی گاڑی میں بیٹھ جاتی میں



مرا بدن کسی تتلی سے کم نہیں زہرا
تو مر نہ جاتی اگر اس کے ہاتھ آتی میں
زہرہ قرار

Comments