مقصود وفا کی شاعری ، منتخب اشعار
کارِ بے کار سے آگے کا قدم لیتا ہوں
جو بناتا ہوں اُسے توڑ کے دم لیتا ہوں
یہ محبت بھی، ھاں محبت بھی
کاروبارِ ہوس رہا ہے میاں
ویسے تو ہجر میں اُس کو بھی نہیں کوئی ملال
ویسے تو میں بھی پریشان نہیں دیکھنے میں
ایک ویرانہ ہے جو شہر کو کھا جاتا ہے
ایک بستی ہے جو جنگل میں بسی رہتی ہے
اُس کی یادوں کو دل و جان سے رخصت کرنا
کام ایسا ہے کہ ہوتا ہوا رہ جاتا ہے
اور اِک روز خود سے چھُپ کے کہیں
جو بنایا، اُسے بگاڑ دیا
ایک غم میں نہال تھا کہ مجھے
اِک خوشی نے بہت اُداس کیا
شکریہ بے کار جاتی زندگی
ہم کو بھی کچھ کام کرنے آ گئے
اور پھر میں بھی خاک ہونے لگا
خاک ہوتی ہوئی زمین کے ساتھ
اپنی منزل اُٹھا کے شانوں پر
چل رہے ہیں کہ راستہ آئے
ایک پل بھی کہاں گزرتا تھا
اِک زمانہ مگر گزار دیا
ہو گیا ہوں میں اپنے آپ میں گم
اب مجھے ڈھونڈنے خدا آئے
دادِ سخن سمیٹ کے خالی ہوا تو پھر
اپنے اِسی کمال کا کچھ رنج سا ہوا
تیرے حق میں ہے سمجھ میرا اِشارہ ورنہ
اِس خموُشی میں مری چُپ بھی سنائی دے گی
شامِ صد رنگ مرے آئینہ خانے میں ٹھہر
میں نے تصویر بنانی ہے ترے غازے سے
میں نے برباد کیا آہ و فغاں سے ورنہ
غم بڑی شے ہے اگر دل اِسے سہہ جایا کرے
کون سمجھے یہ اشارے، یہ کنائے میرے
جانتا کوئی نہیں مجھ کو سوائے میرے
مقصود وفا
Comments
Post a Comment