تو نے اپنی سرفرازی کا کبھی سوچا بھی ہے

تو نے اپنی سرفرازی کا کبھی سوچا بھی ہے؟
آسماں اونچا تو ہے لیکن بہت تنہا بھی ہے

رفتہ رفتہ لوگ اپنی رفعتوں سے تھک گیے
زندہ رہنے کے لیے اک دوسرا رستہ بھی ہے

میری اندر آتی جاتی سب رُتیں آباد ہیں
آنکھ میں سورج بھی ہے، رنگت بھی، برکھا بھی ہے

صبح تک آتی رہ مانوس چہروں کی مہک
کویی اس دیوار و در کے پاس سے گزرا بھی ہے

شہر کے لوگوں سے مل کر میں تجھے بھولا نہیں
ذہن کے پردے پہ تیرے گاوں کا نقشہ بھی ہے

میں گزرگاہِ حوادث ہوں میرے چہرے کو دیکھ
اس پہ سب بیتے دنوں کا ماجرا لکھا بھی ہے

آنے والے خوش دنوں کا منتظر بیٹھا ہوں میں
ڈوبتے سورج کے پیچھے اک نیا تارا بھی ہے

مجھ سے ملتے ہیں تو سب پہچان لیتے ہیں مجھے
ریزہ ریزہ ذات کا شاید کویی چہرہ بھی ہے

میں تجھے شاید بھلا دیتا مرے بے مہر دوست
یاد رکھ کر بھولنے والا کبھی دیکھا بھی ہے

پروفیسر غلام جیلانی اصغر

Comments