نگہہ کی برچھیاں جو سہ سکے سینہ اسی کا ہے

نگہہ کی برچھیاں جو سہ سکے سینہ اسی کا ہے
ہمارا آپ کا جینا نہیں، جینا اسی کا ہے

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

مکدّر یا مصفّا جس کو یہ دونوں ہی یکساں ہوں
حقیقت میں وہی مے خوار ہے، پینا اسی کا ہے

امیدیں جب بڑھیں حد سے طلسمی سانپ ہیں زاہد
جو توڑے یہ طلسم اے دوست گنجینا اسی کا ہے

کدورت سے دل اپنا پاک رکھ اے شادؔ پیری میں
کہ جس کو منہ دکھانا ہے یہ آئینہ اسی کا ہے​


شاد عظیم آبادی

Comments