بے گھری کا اپنی یہ اظہار کم کر دیجئے
بے گھری کا اپنی یہ اظہار کم کر دیجئے
شعر میں نےذکرِ دَر و دیوار کم کر دیجئے
اپنی تنہائی میں اتنا بھی خلل اچھا نہیں
آپ اپنے آپ سے گفتار کم کر دیجئے
دشمنوں کی خود بہ خود ہو جائے گی تعداد کم
یاروں کی فہرست میں کچھ یار کم کر دیجئے
جب توجہ ہی نہیں موجودگی کس کام کی
اس کہانی میں مرا کردار کم کر دیجئے
سوچئے اب اتنے چارہ گر کہاں سے آئیں گے
مسکرا کر اپنے کچھ بیمار کم کر دیجئے
آپ کی باتوں میں آکر جان سے جا توچکے
اب تو اِن میں زہر کی مقدار کم کر دیجئے
آپ جو یہ کہتے ہیں مرنے کی بھی فرصت نہیں
ایسا کیجے اپنے کچھ اتوار کم کر دیجئے
راجیش ریڈی
Comments
Post a Comment