اسی لئے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیں
اسی لئے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیں
ہم اپنا ھاتھ تری پشت سے اٹھا رہے ہیں
وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سرا ہے صدیوں سے
یہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہلا رہے ہیں
ہوئے ہیں دیر سے ہموار زندگی کے لئے
ضرور ہم کسی لشکر کا راستہ رہے ہیں
ابھی کسی کی خوشی میں شریک ہونا ہے
ابھی کسی کے جنازے سے ہو کے آ رہے ہیں
بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہے
شکستہ آئنے ترتیب سے لگا رہے ہیں
اظہر فراغ
Comments
Post a Comment