میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو

میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو
آسماں لائے ہو لے آؤ زمیں پر رکھ دو
اب کہاں ڈھونڈنے جاؤ گے ہمارے قاتل
آپ تو قتل کا الزام ہمی پر رکھ دو
اس نے جس طاق پہ کچھ ٹوٹے دیے رکھے ہیں
چاند تاروں کو بھی لے جا کے وہیں پہ رکھ دو
راحت اندوری

Comments

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  2. واہ کیا بات ہے۔۔۔۔ یہ نامکمل غزل معلوم ہوتی ہے ۔ کیا یہ مکمل ہے ؟؟

    ReplyDelete
  3. ♦️📿وااااہ بـــہــــــت خـــــــــــــوب♦️📿
    ⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩

    ReplyDelete

Post a Comment