سمپورن سنگھ گلزار نظم

پُوچھے جو کوئی میری نشانی رنگِ حنا لکھنا
گورے بدن پہ اُنگلی سے میرا نام ادا لکھنا
کبھی کبھی آس پاس شام رہتی ہے
آؤ نہ آؤ نہ جہلم میں بہہ لیں گے
وادی کے موسم بھی اِک دن تو بدلیں گے
کبھی کبھی آس پاس چاند رہتا ہے
آؤں تو صبح جاؤں تو میرا نام صبا لکھنا
برف پڑے تو برف پہ میرا نام دُعا لکھنا
ذرا ذرا آنگڑی کی آنچ رہتی ہے
کبھی کبھی آس پاس شام رہتی ہے
شامیں بُجھانے آتی ہیں راتٰیں
راتٰٰیں بُجھانے تُم آگئے ہو
جب تُم ہنستے ہو دن ہو جاتا ہے
تُم گلے لگو تو دن سو جاتا ہے
ڈولی اُٹھائے آئے گا دن تو
پاس بیٹھا لینا
کل جو ملیں تو ماتھے پہ میرے سورج اُگا دینا
ذرا ذرا آس پاس دھوپ رہے گی
پُوچھے جو کوئی میری نشانی رنگِ حنا لکھنا
گورے بدن پہ اُنگلی سے میرا نام ادا لکھنا
کبھی کبھی آس پاس چاند رہتا ہے

گلزار

Comments