ہم کسی حال میں کشمیر نہیں دے سکتے
اپنے پرکھوں کی یہ جاگیر نہیں دے سکتے
ہم کسی حال میں کشمیر نہیں دے سکتے
ہم نے جنت کے لیے خواب جو دیکھے ہیں یہاں
ہم تو ان خوابوں کی تعبیر نہیں دے سکتے
تو نے کشمیر کے بچوں کا بہایا ہے لہو
ہم تجھے منصب و توقیر نہیں دے سکتے
ہم غلامان محمد ہیں ہمیں تنگ نہ کر
جان دے سکتے ہیں شمشیر نہیں دے سکتے
تو حاکم بھی ہے ظالم بھی ہے مردود بھی ہے
ہم ترے ہاتھ میں تقدیر نہیں دے سکتے
ہم کو اندر سے قمر باندھ رکھا ہے جس نے
کسی دشمن کو وہ زنجیر نہیں دے سکتے
قمر ریاض
Comments
Post a Comment