مجھ خطا کار کو آقا نے بلایا پھر سے
مجھ خطا کار کو آقا نے بلایا پھر سے
سبز گنبد کا دکھایا ہے نظارا پھر سے
میں پشیمان کھڑا تھا درِ اقدس کے قریب
بخت چمکا تو دکھایا مجھے روضہ پھر سے
مجھ میں طاقت نہیں باقی رہی گویائی کی
صرف آنکھوں نے محبت کو سنایا پھر سے
کیسے ممتاز ہیں وہ سب جو یہاں آتے ہیں
میں ہوں خوش بخت دکھایا ہے مدینہ پھر سے
ڈاکٹر محمد کامران
Comments
Post a Comment