اگر وہ سنگ بھی مری طرف اچھالے گا
اگر وہ سنگ بھی مری طرف اُچھالے گا
مِرے چھلکتے ہُوئے خُون کی دُعا لے گا
مِرا تو جُرم ہی شعلوں سے پیار کرنا ہے
میں کھل اٹھوں گا اگر آگ میں بھی ڈالے گا
نظر کی دُھوپ صدا کا غبار دل کا دھواں
زمانہ اس کے سوا اور مجھ سے کیا لے گا
میں جھانکتا نہیں اس ڈر سے اس کی آنکھوں میں
یہ آئنہ تو َمِرا عکس بھی چرالے گا
رہوں گا پھر بھی اسی آسمان کے نیچے
وہ اپنے شہر سے مجھ کو اگر نکالے گا
ہر آستین پہ میرے لہو کے چھنٹے ہیں
کوئی جولے گا تو کس کس سے خوں بہاے گا
ملا دیا مظفر کو خاک میں اُس نے
تو کوئی جھونکا اُسے دوش پر اُٹھاے گا
مظفر وارثی

Comments
Post a Comment