بولتے بولتے جس رات زباں رہ گئے ہم
بولتے بولتے جس رات زباں رہ گئے ہم
دن جب آیا تو بتایا کہ کہاں رہ گئے ہم
ہمیں اِتنی بڑی دُنیا کا پتا تھوڑی تھا
جہاں ہم تم ہوا کرتے تھے ، وہاں رہ گئے ہم
ہم پہ دوڑاؤ نظر ، ہم سے ملاؤ نہ نظر
بس ضرر رہ گئے ہم لوگ ، زیاں رہ گئے ہم
ایک آواز کے دو حصّے ہوئے ، ٹھیک ہوا
تم وہاں رہ گئے خاموش ، یہاں رہ گئے ہم
ہم مکاں بھی تھے ، مکیں بھی تھے ، کہ بازار تھا گرم
پھر خسارہ ہوا اور صرف مکاں رہ گئے ہم
نقطے نقطے سے لگے بیٹھے ہیں روتے ، ہنستے
جیسے درکار بیاں کو تھے ، بیاں رہ گئے ہم
دیر تک خالی مکاں ، خالی نہیں چھوڑتے ہیں
آپ تب تھے ہی نہیں ، آپ کے ہاں رہ گئے ہم
گھر ہی ایسا تھا یہ کچھ دہری مسہری والا
اپنا رہنے کے علاوہ بھی یہاں رہ گئے ہم
پاؤں درزوں میں ٹکائے ہوئے ، سر رخنوں میں
اِس نہاں خانے میں رہ رہ کے عیاں رہ گئے ہم
شاہین عباس

Comments
Post a Comment