آنکھوں سے اشک تھم گئے سینوں میں چھپ گئے

آنکھوں سے اشک تھم گئے ، سینوں میں چھپ گئے
دریا بھنور کنارے سفینوں میں چھپ  گئے
پھر یوں ہوا کہ ہجر بھی دینے لگا سکوں
ٹوٹے ھوئے مکان مکینوں میں چھپ گئے
بام ِ عروج مجھ پہ عیاں تو ہوا مگر
سب دوست راہ داری کے زینوں میں چھپ گئے
بیٹی کا ایک خواب نہ تعبیر کر سکی
ایام زندگی کے مشینوں میں چھپ گئے
کیسے حسین لوگ تہہ ِ خاک سو گئے
کتنے فلک نشین زمینوں میں چھپ  گئے
ہم ٹوٹی منگنیوں کی ندامت تھے فوزیہ
ہم لوگ انگلیوں کے نگینوں میں چھپ گئے۔
فوزیہ شیخ

Comments