ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
مٹ جائیں ایک دم میں یہ کثرت نمائیاں
گر آئینے کے سامنے ہم آکے ہو کریں
سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال کہ جو کچھ گفتگو کریں
ہر چند آئنہ ہوں پر اتنا ہوں نا قبول
منہ پھیر لیں وہ جس کے مجھے رو برو کریں
نے گل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار
کس بات پر چمنِ ہوسِ رنگِ و بو کریں
ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدانِ شہر
اے درد آکے بیعتِ دستِ سبو کریں
خواجہ میر درد

Comments
Post a Comment