کچھ لائے نہ تھے کہ کھو گئے ہم

کچھ لائے نہ تھے کہ کھو گئے ہم
تھے آپ ہی ایک سو گئے ہم
جوں آئینہ جس پہ یاں نظر کی
ساتھ اپنے دوچار ہوگئے ہم
ماتم کدہ دہر میں جوں ابر
اپنے تئیں آپ رو گئے ہم
ہستی نے تو ٹک جگا دیا تھا
پھر کھلتے ہی آنکھ سو گئے ہم



 یاروں ہی سے درد ہے یہ چرچا
پھر کوئی نہیں ہے جو گئے ہم
خواجہ میر درد

Comments