صرف آنکھیں ہی دیکھیں تھیں میں نے

صرف آنکھیں ہی دیکھیں تھیں میں نے 


نیم باز ان آنکھوں سے جب 


نیم کش اک نگاہ اٹھی تھی 


اک خلش رہ گئی ہے سینے میں

میر کہتے تھے


"نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے" 


اور غالب کے دل سے پوچھو تو 


"یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا"


میر و غالب کو دیکھا تیری آنکھوں میں

گلزار


Comments