اک حسیں شعر ہوا ہو جیسے

تو نے کچھ بھی نہ کہا ہو جیسے 
میرے ہی دل کی صدا ہو جیسے 
یوں تری یاد سے جی گھبرایا 
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے 
اس طرح تجھ سے کیے ہیں شکوے 
مجھ کو اپنے سے گلا ہو جیسے 
یوں ہر اک نقش پہ جھکتی ہے جبیں 
تیرا نقش کف پا ہو جیسے 
تیرے ہونٹوں کی خفی سی لرزش 
اک حسیں شعر ہوا ہو جیسے
صوفی تبسم

Comments