خود بخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہُوا
خود بخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہُوا
اِتنے احباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے
ہم بھی غالب کی طرح کوچۂ جاناں سے اسد ؔ
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے
اسد اعوان
۔۔۔
اسد اعوان مُدیر ’’دریچہ‘‘ شاکی ہیں۔ اُن کی یہ غزل جو پہلے2007ء میں ’’ماہِ نو‘‘ میں چَھپی اور پھر اُن کے مجموعے۔’’ نہ اس طرح سے ملو‘‘ (2008ء) کی زینت بنی ہوئی ہے۔
اِتنے احباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے
ہم بھی غالب کی طرح کوچۂ جاناں سے اسد ؔ
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے
اسد اعوان
۔۔۔
اسد اعوان مُدیر ’’دریچہ‘‘ شاکی ہیں۔ اُن کی یہ غزل جو پہلے2007ء میں ’’ماہِ نو‘‘ میں چَھپی اور پھر اُن کے مجموعے۔’’ نہ اس طرح سے ملو‘‘ (2008ء) کی زینت بنی ہوئی ہے۔
مگر یہ تو محسن نقوی کے نام کے ساتھ لکھی جاتی ہے
ReplyDelete