خواجہ آتش کے منتخب اشعار

شوقِ وصلت میں ہے شغلِ اشک افشانی مجھے
ہجر میں کرنا پڑا آخر لہو پانی مجھے
...

سچ یہ ہے کہ آتش نہیں تجھ سا کوئی شاعر
شہروں میں ترے جھوٹ کا افسانہ ہوا ہے
...

راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
...

دہَن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے
زمینِ چَمَن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
...

ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام
کرتی ہے رُوح، مرحلۂ آب و گِل تمام
کرتے ہیں غیر یار سے میرا بیانِ حال
اُلفت سے ہوگئے ہیں موافق مُخِل تمام

تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ
ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے

شہر میں قافیہ پیمائی بہت کی آتش
اب ارادہ ہے مرا بادیہ پیمائی کا

دیوانہ زلفِ یار کی زنجیر کا ہے دل
رہتا ہے صدمہ روح کو قیدِ شدید کا

نہ پوچھ احوال بے درد اپنے بیمارِ محبت کا
زمیں اُس کے لیے اب تو عزیزاں مول لیتے ہیں



یاد آتی ہیں ادائیں جو تری اے محبوب
بھول جاتے ہیں حسینانِ جہاں ناز اپنا

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر طالعِ بیدار نے سونے نہ دیا

تسکین کے لئے گئے منزل میں گور کی 
پہنچے تڑپ تڑپ کے تِرے بے قرار دُور

مرے آگے اس کو فروغ ہو ، یہ مجال کیا ہے رقیب کی
یہ ہجومِ جلوۂ یار ہے ، کہ چراغِ خانہ کو جا نہیں

چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا

رہا سال ہا سال جنگل میں آتِش
مرے سامنے بیدِ مجنوں نہ نکلا

خواجہ حیدر علی آتش

Comments