گر کیجے رقم کچھ تری وحدت کے بیاں کا
گر کیجے رقم کچھ تری وحدت کے بیاں کا
تو چاہیے خامہ بھی اسی ایک زباں کا
تو ہے تو مری جان و دل و جسم ہے ورنہ
کیسا یہ دل اور کیسا یہ جی اور میں کہاں کا
رکھتے ہیں نہ کچھ نام ہی اپنا نہ نشان ہم
کیا نام و نشان پوچھو ہو بے نام و نشاں کا
اس بات کو ٹک سُن کہ جہاں کا نہ ہو اثبات
کیا دل میں بھروسا کرے پھر کوئی دہاں کا
مت دست ہوس کو تو جھُکا لینے کو اسکے
ماٹی سے سب آلود ہے اسباب جہاں کا
سربستہ رہا یوں ہی یہ رازِ حرم و دیر
معلوم ہوا بھید نہ یاں کا نہ وہاں کا
بیگانہ ہے یاں کون اور اپنا ہے یہاں کون
ہے سب یہ بکھیڑا مرے ہی وہم و گماں کا
جس عالمِ ہستی کو سمجھتے تھے بہار آہ
آخر کو جو دیکھا تو وہ موسم تھا خزاں کا
سچ کیوں نہ کہیں ہم تو مسلمان ہیں اے شیخ
رہتا ہے یہاں نامِ خدا ذکر بتاں کا
مرضی ہو جہاں اُس کی وہی جا ہمیں بہتر
مشتاق دل اپنا نہیں کچھ باغِ جناں کا
سر دیوے گا جس دم تو حسن تیغ کو اُس کی
اسرار کھلے گا تبھی اس سرِ نہاں کا
میر حسن
Comments
Post a Comment