میری وفائیں یاد کرو گے
میری وفائیں یاد کرو گے
روؤ گے فریاد کرو گے
مجھ کو تو برباد کِیا ہے
اور کِسے برباد کرو گے
محفل کی محفل ہے غم گِیں
کِس کِس کا دِل شاد کرو گے
دُشمن تک کو بُھول گئے ہو
مجھ کو تم کیا یاد کرو گے
ختم ہوئی دُشنام طرازی
یا کچھ اور اِرشاد کرو گے
جا کر بھی ناشاد کِیا تھا
آ کر بھی ناشاد کرو گے
چھوڑو بھی تاثیرؔ کی باتیں
کب تک اُس کو یاد کرو گے
محمد دین تاثیر
Comments
Post a Comment