یورش درد نہیں شورش جذبات نہیں
یورشِ درد نہیں، شورشِ جذبات نہیں
دل میں اندیشے نہیں، لَب پہ مناجات نہیں
گِلہء دہر نہیں، شکوہء حالات نہیں
ہجر کی رات میں پہلی سی کوئی بات نہیں
اپنی کم مائیگی عزم کا بخشا ہُوا سم
میں نے لَوٹا دیا مانگا ہُوا احساسِ اَلم
کاسہء چشم میں اَشکوں کی بھی خیرات نہیں
ہجر کی رات میں پہلی سی کوئی بات نہیں
درد جب حد سے بڑھا، درد ہی دَرماں ٹھہرا
جامِ زہر اب نئی زیست کا عُنواں ٹھہرا
وقت کے بازی گَرو، جیت ہے یہ مات نہیں
ہجر کی رات میں پہلی سی کوئی بات نہیں
محسن بھوپالی
Comments
Post a Comment