ہزاروں بت ہیں خلوت گاہ دل میں
ہزاروں بُت ہیں خلوت گاہِ دل میں
لَبوں پر اِک خُدا کے تذکرے ہیں
نہیں وجہِ اَلم شب کی طوالت
چراغوں کو ہواؤں سے گِلے ہیں
مِرے سادہ سُخن کے تیوروں سے
تِرے ماتھے پہ کیا کیا بَل پڑے ہیں
تِرے مہجُور کل تک اَنجمن تھے
تجھے پا کر اکیلے ہو گئے ہیں
تِری یادوں کے آوارہ سفینے
مِرے دل کے کِنارے چل رہے ہیں
نجیب احمد
Comments
Post a Comment