گھر دروازے سے دوری پر سات سمندر بیچ
گھر دروازے سے دُوری پر، سات سمندر بیچ
ایک انجانے دُشمن کی ہے، گھات سمندر بیچ
پھر یہ ہارنے والی آنکھیں جاگیں اِس دھوکے میں
کوئی خواب بَھنور میں جاگا، رات سمندر بیچ
اب کیا اُونچے بادبان پر خواب ستارہ چَمکے
آنکھیں رہ گئیں ساحل پر اور ہات سمندر بیچ
لہر سے لہر مِلے تو دیکھو قطرے کی تنہائی
دل جیسی اِک بُوند کی کیا اوقات سمندر بیچ
ایک کہانی سوچ رہی ہے مُجھ کو کون کہے
ایک جزیرہ ڈوُب رہا ہے ذات سمندر بیچ
ایک سفر پَتوار کا اپنا ایک سفر پانی کا
اور مُسافر تنہا کھا گیا مات، سمندر بیچ
ایوب خاور
Comments
Post a Comment