اتنی نہ اپنے نام کی ہر سو دہائی دے
اتنی نہ اپنے نام کی ہر سُو دُہائی دے
جتنا تجھے میں سُن سکوں اُتنا سنائی دے
مجھ کو کسی بھی حال میں بندوں کے ساتھ رکھ
جن کو خدائی چاہیے اُن کو خدائی دے
سانسوں کی ڈور کاٹ دے،افلاک چاک کر
محبوسِ دل کو خیمہء جاں سے رہائی دے
جو چاہتا ہو درد کے اُس پار دیکھنا
اُس کو رسائی روزنِ زخمِ جدائی دے
دیکھے گا کوئی تیرگی میں دل بجھا ہوا
جلتا ہوا چراغ تو سب کو دکھائی دے
ہم انتہائے عشق کے راہی تھے ، یاد کر
اب رنج دینے آیا ہے تو انتہائی دے
میں تجھ میں چل کے خود سے بہت دور جا پڑا
اے یادِ یار ! اب مجھے مجھ تک رسائی دے
اُس کا وجود میرے تصور کا معجزہ
جیسا میں اس کو سوچ لوں ویسا دکھائی دے
شہزاد نیئر

Comments
Post a Comment