اے ہجر زوال چاہتے ہیں

اے ہجر! زوال چاہتے ہیں
اِک رات وصال چاہتے ہیں
کچھ دُکھ، کچھ درد، کچھ مُحبّت
اسبابِ کمال چاہتے ہیں
کب تک آنکھیں تہی رہیں گی
کچھ رنگِ مَلال چاہتے ہیں
گھر گھر پہچان ہو ہماری
تجھ سے خدوخال چاہتے ہیں
اے تابِ سوال! ہم تو، دل کیا
جاں تک پامال چاہتے ہیں
اِک موجہء بادِ نو بہاری
خوُشبو کی مثال چاہتے ہیں
ہر گام نجیبؔ ساتھ رہنا
کیوں ہم سے نڈھال چاہتے ہیں

نجیب احمد

Comments