پھولوں سے ہاتھ خالی ہیں زر بخش دے

پھولوں سے ہاتھ خالی ہیں زَر بخش دے
ہر شجر کو خدا یا ثمر بخش دے

سوچ سے میری بڑھ کر ہے قدرت تِری
تو جو چاہے تو پتھر کو پَر بخش دے

کفر ہے اس سے مایوس ہونا شکیلؔ
کیا خبر کب دعا میں اثر بخش دے
اطہر شکیل نگینوی

Comments