وہاں تو سانس بھی لینا محال ہو گیا تھا

وہاں تو سانس بھی لینا محال ہو گیا تھا
کہ تیرے بارے میں مجھ سے سوال ہو گیا تھا
کوئی دلاسا مجھے پھر بحال کر نہ سکا
میں اک "نہیں" سے کچھ ایسا نڈھال ہو گیا تھا
چراغ آس کا آخر مجھے بجھانا پڑا
کسی کو بچھڑے ہوئے بھی تو سال ہو گیا تھا
ہم اپنے لہجے پہ یوں ہی توجہ دیتے رہے
ہماری آنکھ سے ظاہر ملال ہو گیا  تھا
تمھارے چھوڑ کے جانے کا رنج اپنی جگہ
ہمارا رابطہ خود سے بحال ہو گیا  تھا
حسن ظہیر راجا

Comments