يہ دل چوں کہ تمهارے نام کرنا ہے

يہ دِل چوں کہ تمهارے نام کرنا ہے
سو اِس کو واقفِ آلام کرنا ہے
ابهی ہم کو بُہت خاموش رہنا ہے
ابهی ہم کو يہاں کچھ کام کرنا ہے
ابهی ہم کو نيا اِک دل بنانا ہے
پهر اس دِل کو جہاں ميں عام کرنا ہے
اِسے پهر خاک سے اُوپر اُٹهانا ہے
اِسے پِهر صاحبِ اِکرام کرنا ہے
ہميں دُنيا کی خواہش چهوڑ دينی ہے
ديارِ عشق ميں آرام کرنا ہے
ہميں پِهر عشق کو پيشہ بنانا ہے
اور اِس پيشے ميں پيدا نام کرنا ہے
کِسی شب کو سَحَر تک لے کے چلنا ہے
مگر پہلے سَحَر کو شام کرنا ہے
کئی قصے ابهی آغاز کرنے ہيں
کوئی قصہ مگر انجام کرنا ہے
کمالِ فن کا اِک طائر بنانا ہے
پهر اُس طائر کو زيرِ دام کرنا ہے
ابهی ہم کو بُہت سے شعر کہنے ہيں
ابهی ہم کو بہت سا کام کرنا ہے
ضيا الحسن

Comments