ثوابت سے سیار تک جائیں گے

ثوابت سے سیّار تک جائیں گے
زمانے کی رفتار تک جائیں گے

ذرا دیکھنا آدمی کے قدم
جہانوں کے اَسرار تک جائیں گے

نواحِ گلستاں میں خاموش رہ
یہ نالے گرفتار تک جائیں گے

جہاں کے جھمیلوں سے فرصت ملی
تو یارِ طرح دار تک جائیں گے

بندھے ہاتھ کُھل جو گئے ساتھیو
تو شاخِ ثمردار تک جائیں گے

ثروت حسین

Comments