موسم ہے خوشگوار مرے ساتھ ساتھ چل

موسم ہے خوشگوار، مرے ساتھ ساتھ چل
اے رشکِ نو بہار ! ، مرے ساتھ ساتھ چل
دنیا بڑی فضول ہے ، بلکل فضول ہے
دنیا کو چھوڑ یار! ، مرے ساتھ ساتھ چل
چلنا بھلے محال ہو دشتِ گمان میں
پھر بھی یقیں شعار ، مرے ساتھ ساتھ چل
الفت ترا وجود ہے، الفت مرا وجود
کر اس کا اعتبار، مرے ساتھ ساتھ چل
تنہا سفر کی ناؤ میں کتنا اداس ہوں
آ تو بھی ہو سوار ، مرے ساتھ ساتھ چل
جیون کی رہ گزر پہ تو آ مثلِ ہمسفر
کر ختم انتظار، مرے ساتھ ساتھ چل
مجھ کو دوام بخش دے اپنے وصال سے
یعنی، تو بار بار مرے ساتھ ساتھ چل
مبشر سعید

Comments