پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے
پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا ، جانے دے
قربتِ لمس کو گالی نہ بنا ، جانے دے
تُو جو ہر روز نئے حسن پہ مر جاتا ہے
تُو بتائے گا مجھے عشق ہے کیا ؟ جانے دے
جانتا ہوں کہ تجھے کون سی مجبوری تھی
اب میرے سامنے ٹسوے نہ بہا ، جانے دے
چائے پیتے ہیں کہیں بیٹھ کے دونوں بھائی
جا چکی ہے نا ؟ تو بس چھوڑ ! چل آ ، جانے دے
علی زریون
Comments
Post a Comment