ماڈل ٹاؤن پارک گئے تھے ٹھوکر سے

ماڈل ٹاؤن پارک گئے تھے ٹھوکر سے
کیا ہی اچھی یاد جڑی ہے اوبر سے

کیا سوچا تھا کیا نکلا ہے لاکر سے
اس پر کوئی آ پہنچا ہے اوپر سے

میں بھی ناک نہیں کر پایا جلدی میں
دروازہ بھی لاک نہیں تھا اندر سے

میں نے اس کو ایسے خواب دکھائے ہیں
نیند میں نیچے گر جاتا ہے بستر سے

ایسا بھاری ایسا بے حس ایسا چپ
جیسے اس کی شرط لگی ہو پتھر سے

تم نے میری دونوں صورتیں دیکھی ہیں
کس سے پیار ہے صوبر سے یا لوفر سے

میں کس کو انصاف دلانے نکلا تھا
میری لاش ملی ہے میرے چیمبر سے

دل اور ذہن تجسس سے بھر جاتے تھے
خالی میسج آتے تھے اک نمبر سے
ضیاء مزکور

Comments