ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو
ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو
ہاتھ بندھے ہوں سینے پر دل بیعت سے انکاری ہو
جشن ظفر ایک اور سفر کی ساعت کا دیباچہ ہے
خیمہ شب میں رقص بھی ہو اور کوچ کی بھی تیاری ہو
اس سے کم پر رم خور دوں کا کون تعاقب کرتا ہے
یا بانوئے کوئے اودھ ہو یا آہوئے تتاری ہو
دائم ہے سلطانی ہم شہزادوں خاک نہادوں کی
برق و شرر کی مسند ہو یا تختِ بادِ بہاری ہو
ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغ
آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو
چشمِ طلب کو منظرِ شب میں اکثر ایسا لگتا ہے
خاکِ گزر کے پیچھے جیسے پیکِ سحر کی سواری ہو
عرفان صدیقی
Comments
Post a Comment