ان کا در چومنے کا صلہ مل گیا
ان کا در چومنے کا صلہ مل گیا
سر اٹھایا تو مجھ کو خدا مل گیا
عاصیوں کا بڑا مرتبہ مل گیا
حشر میں دامنِ مصطفی مل گیا
ان کھجوروں کے جھرمٹ میں کیا مل گیا
باغِ خلدِ بریں کا پتا مل گیا
جس کو طیبہ کی ٹھنڈی ہوا مل گئی
بس اسے زندگی کا مزا مل گیا
مدحتِ مصطفی کا یہ احسان ہے
میرا حسان سے سلسلہ مل گیا
کچھ نہ پوچھو کہ میں کیسے بیکل ہوا
مجھ کو کملی میں نورِ خدا مل گیا
بیکلؔ اتساہی
Comments
Post a Comment