دل میں کیوں کر اتر نہیں جاتا 

دل میں کیوں کر اتر نہیں جاتا 
جو مجھے چھوڑ کر نہیں جاتا 
عشق اتنا بھی کیا ضروری ہے 
کوئی بے عشق مر نہیں جاتا 




انگلیاں پھیر میرے بالوں میں 
یہ میرا درد سر نہیں جاتا 
کیوں میرے آس پاس گھومتا ہے 
کیوں یہ نشہ اتر نہیں جاتا 
سب تری انجمن میں بیٹھے ہیں 
کوئی بھی شخص گھر نہیں جاتا 
یوں پڑا ہوں تمہاری یادوں میں 
جس طرح کوئی مر نہیں جاتا 
سب کو اپنی خبر تو ہوتی ہے 
کوئی بھی بے خبر نہیں جاتا 
یوں لگا ہوں تیرے گلے سے میں 
جس طرح کوئی ڈر نہیں جاتا 
ندیم بھابھہ

Comments

Post a Comment