ہر اک آواز اب اردو کو فریادی بتاتی ہے

ہر اک آواز اب اردو کو فریادی بتاتی ہے
یہ پگلی پھر بھی اب تک خود کو شہزادی بتاتی ہے

جہاں پچھلے کئی برسوں سے کالے ناگ رہتے ہیں
وہاں ایک گھونسلا چڑیوں کا تھا، دادی بتاتی ہے

یہاں ویرانیوں کی ایک مدت سے حکومت ہے
یہاں سے نفرتیں گزری ہیں بربادی بتاتی ہے

غلامی نے ابھی تک ملک کا پیچھا نہیں چھوڑا
ہمیں پھر قید ہونا ہے یہ آزادی بتاتی ہے

غریبی کیوں ہمارے شہر سے باہر نہیں جاتی
امیر شہر کے گھر کی ہر اک شادی بتاتی ہے

منور رانا

Comments