ماں نے رو رو کے ہے بینائی گنوائی بھائی
ماں نے رو رو کے ہے بینائی گنوائی بھائی
لٹ گئی باپ کی اک پل میں کمائی بھائی
سال بھر گھر پہ محرم کا مہینہ ٹھہرا
پھر ترے بعد کبھی عید نہ آئی بھائی
تو نے دیکھا نہ وہ بھائیوں پہ قیامت کا سماں
جب جواں لاش تھی کاندھوں پہ اٹھائی بھائی
شام ہوتے ہی میں دہلیز پہ آ جاتی ہوں
کوئی آہٹ ترے قدموں کی نہ پائی بھائی
کوئی پیغام نہ خط تیرا کبھی آ تا ہے
جانے کس دیس میں دنیا ہے بسائی بھائی
چل میرا ویر تو اک بار تو آجا واپس
اب کروں گی نہ کبھی تجھ سے لڑائی بھائی
فوزیہ شیخ
Comments
Post a Comment