ہر ایک روپ انوکھا تھا اس کی حیرت کا
ہر ایک روپ انوکھا تھا اُس کی حیرت کا
مِرے لئے وہ زمانے بدل کے آتی تھی
میں اُس کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا
وہ مجھ کو خواب نہیں، نیند سے جگاتی تھی
"علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی"
گلے لگا کے مِرا حوصلہ بڑھاتی تھی
" تم اُس سے دُور رہو" لوگ اُس سے کہتے تھے
" وہ میرا سچ ہے " بہت چیخ کر بتاتی تھی
اور اب میں خوش ہوں ! کہ اُس رنگ کے حصار میں ہوں
وہ رنگ ! جس کا پتا وہ مجھے بتاتی تھی
علی زریون
Comments
Post a Comment