برائی کیا ہے اگر خالی ہاتھ آئے گا
برائی کیا ہے اگر خالی ہاتھ آئے گا
مگر وہ بچھڑے ہوؤں کی خبر تو لائے گا
نکال لایا ہے رومال سے کبوتر وہ
ہوا میں تاش کے پتے ابھی اڑائے گا
اسے خمار ہے پابندیاں لگانے کا
تمھارے گرد بھی اک دائرہ بنائے گا
جو بھر کے نکلا تھا دریا سے سوکھا مشکیزہ
کسے پتا تھا ترائی میں مارا جائے گا
کل اس نے پھینک دی تصویر پرس سے میری
اب اگلی لڑکی کو وہ جال میں پھنسائے گا
یہ شور اس کی طبیعت کے ماتحت رہے گا
وہ کم کرے گا کبھی والیم بڑھائے گا
تم اس کے چہرے پہ مجبوریوں کو پڑھ لینا
دبی زبان سے وہ آدھا سچ بتائے گا
اسے بتانا کہ یہ دل ابھی دھڑکتا ہے
مری مرادوں کا دھاگا نہیں جلائے گا
زہرا قرار
Comments
Post a Comment