میں ہوا ہوں تجھے کیا تو بھی ہوا عشق مجھے

میں ہُوا ہُوں تجھے, کیا تُو بھی ہُوا عشق مجھے
میری کیا پوچھتا ہے, اپنی سُنا عشق  مجھے
پہلے پہلے میں بہت جس پہ ہنسا کرتا تھا
آخرِ کار وہی کرنا پڑا عشق  مجھے
ایسی یکسوئی کہاں سے مجھے حاصل ہے میاں
کیسے ہو جاتا ہے ہر روز نیا عشق  مجھے
مرشدی تُو نے ہی کھولا مِرا باطن مجھ پر
خود سے بھی تیرے وسیلے سے ہُوا عشق  مجھے
میری وحشت مِری آنکھوں سے نہ ظاہر ہوگی
ہاں کبھی تجھ سے اگر ہو  بھی گیا عشق مجھے
میری صحبت میں اگر میرا خدا خوش ہے تو پھر
کلمہ کوئی تکلم کا سِکھا عشق  مجھے
انجم سلیمی

Comments