فضا میں دور تلک صرف بے بسی ہو گی

فضا میں دور تلک صرف بے بسی ہو گی

وہ بس پکڑنے کو جس وقت بھاگتی ہو گی

 غلط سمے پہ اسے فون کیوں لگا رہے ہو

وہ لڑکی رات کے اس وقت پڑھ رہی ہو گی

میں اس سے مل نہیں پائی تھی ان دنوں شاید

یہ بات میں نے اسے بعد میں کہی ہو گی

جہاں پہ ہاتھ چھڑایا تھا تم نے رستے میں

وہیں کہیں پہ انگوٹھی مری گری ہو گی

اکیلے پن کی جو دنیا بسائی ہے اس نے

وہ سج سنور کے بھی گھر میں ہی بیٹھتی ہو گی

گلاس پر بھی نشاں میری انگلیوں کے ہیں

گلاس میں بھی محبت کی چاشنی ہو گی

اگر یہ حال ہے دروازے اور دریچوں کا

کتاب پر تو بہت دھول جم گئی ہو گی

تمہارے ہوتے ہوئے ہے مجھے پریشانی

تمہارے عشق سے اچھی تو نوکری ہو گی

قرار ڈھونڈ کے لائیں وہ اچھے دن کیسے

اب ان دنوں پہ فقط اچھی شاعری ہو گی

زہراء قرار

Comments