لہو رلانے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
لہو رُلانے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
ترے فسانے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
ہتھیلیوں پہ لَووں کو اٹھائے پھرتا ہوں
دئیے بنانے میں میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
پلٹ گئی کوئی نیکی صدا لگاتی ہوئی
دعا کمانے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
اُتر تو آیا تھا سُورج مِرے بُلاوے پر
زمیں بچھانے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
کہاں سماؤں ؟ , بدن خاک ہو چکا اب تو
پلٹ کے آنے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
مِری گواہی اب آتے سمے سے لی جائے
یقیں دلانے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
مِرا خیال کسی نے اُچک لیا , انجم
قلم اٹھانے میں تاخیر ہو گئی مجھ سے
انجم سلیمی
Comments
Post a Comment